ہم اکثر امریکی ایجنسی ‘ایف بی آئی’ کے بارے میں سنتے رہتے ہیں کہ وہ دنیا بھر کے لوگوں کی حساس معلومات چرا لیتی ہے تاکہ مناسب وقت پر ان معلومات کو متعلقہ ممالک کی آبادی کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ تاہم، اس بار صورتحال بالکل الٹ ہے؛ ایسی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں کہ سی آئی اے کے سپیشل ایجنٹس کی ذاتی صحت اور خاندانی کوائف (ڈیٹا) چوری کر لیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہیکرز نے اس چوری کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صحت سے متعلق اہم معلومات اور سپیشل ایجنٹس کی نجی زندگیوں سے جڑے متعدد راز حاصل کر لیے ہیں۔ ہیکرز کا کہنا ہے کہ چوری شدہ ڈیٹا میں طبی رپورٹس، جیسے کہ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ نتائج، خصوصی ایجنٹوں کے طبی معائنے، نام، پتے، فون نمبرز اور دیگر ذاتی اور اہم معلومات شامل ہیں۔، اور خاص طور پر ایجنٹس کے صحت کے مخصوص مسائل کی واضح تفصیلات موجود ہیں۔
سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہیک کیے گئے ڈیٹا میں نہ صرف سپیشل ایجنٹس کے نام، پتے اور مکمل کوائف شامل ہیں بلکہ ان کی ذاتی صحت کے مسائل اور طبی نسخوں سے متعلق معلومات بھی موجود ہیں۔ رپورٹس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کون سے ایجنٹس پیشاب کے مسائل یا ہائی کولیسٹرول کا شکار ہیں۔
ایجنسی کی تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا کو مستقبل میں سپیشل ایجنٹس کو بلیک میل کرنے یا انہیں دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سائبر حملوں کے ماسٹر مائنڈ کے گروپ شائنی ہنٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پیر کے روز ایف بی آئی کے سسٹمز کو ہیک کیا، اور ڈیٹا چوری کرنے کے بعد تمام حساس معلومات کو اپنے ڈارک نیٹ سائٹ پر شائع کر دیا۔
اس حملے میں سوالات کا جواب نہ دیتے ہوۓ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کے ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں جس کے بعد یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ آیا سائبر حملوں میں معلومات چوری بھی ہوئی ہیں یا صرف جھوٹی افواہیں ہیں۔ لیکن دوسری جانب حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اس بار ہیکرز کا مطالبہ رقم نہیں ہے، اس کے بجائے وہ گزشتہ مئی میں شائع ہونے والی ایف بی آئی کی ایک ایڈوائزری رپورٹ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

